
تہران : ایرانی پارلیمنٹ نے جوہری تنصیبات کی سلامتی کی ضمانت ملنے تک بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری دے دی۔ پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے بل کے تحت آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ایران میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ آئی اے ای اے نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرنے کی زحمت بھی نہیں کی اور اپنی بین الاقوامی ساکھ کو فروخت پر لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کہ جوہری تنصیبات کی سلامتی یقینی نہ بنا دی جائے ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم اقوام متحدہ کے نگران ادارے کے ساتھ اپنا تعاون معطل کر دے گی اور پرامن نیوکلیئر پروگرام کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے گا۔
پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن علاء الدین بروجردی نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کو ایران میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔
اس سے پہلے ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال وندی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جوہری تنصیبات کے خلاف جارحیت کے باوجود ملک کا جوہری پروگرام آگے بڑھتا رہے گا۔


































