
تہران : ایران کی عدلیہ نے کہا ہے کہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد مظاہروں میں 300 سے زیادہ افراد پرفردِ جُرم عائد کی گئی ہے۔ان میں سے چار پر ایک ایسے جرم میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے جس میں انھیں سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔ تہران کے پراسیکیوٹر علی صالحی نے کہا کہ 315 افراد کے خلاف ملک کی سلامتی کے منافی کام کرنے کے ارادے سے جمع ہونے اور ملی بھگت کرنے، نظام کے خلاف پروپیگنڈا اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات پرفردِ جُرم عائد کی گئی ہے۔ محاربہ کے الزام میں چار فسادیوں کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے۔اس کا مطلب ہے خدا کے خلاف جنگ، ایک ایسا الزام جس میں موت کی سزا ہوسکتی ہے۔ صالحی نے مزیدکہاکہ ان پر معاشرے اور عوام کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ایک ہتھیار کا استعمال کرنے ، سیکیورٹی افسروں کو زخمی کرنے ، ملک کی سلامتی میں خلل ڈالنے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کا مقابلہ کرنے کے ارادے سے عوامی اور سرکاری املاک کو آگ لگانے اور تباہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔


































