
تہران : ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہم نہ مذاکرات سے گھبراتے ہیں اور نہ ہی جنگ سے فکر مند ہوتے ہیں۔ امریکا کی جانب سے دھوکہ دہی کی ایک تاریخ ہے، جس کی وجہ سے امریکا پر بھروسہ کرنا آسان نہیں ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کسی بھی تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے نئے مذاکرات میں شامل ہونے سے ڈرتا ہے اور نہ ہی وہ مخالفین کی طرف سے مسلط کردہ نئی جنگ سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے نئے سفارتی عمل میں شامل ہونے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیاہے۔ لیکن امریکا کی دھوکہ دہی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے اس پر اعتماد نہیں کر سکتا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ٹرمپ حکومت حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کو ایران کے خلاف غیر معمولی سیاسی، فوجی، انٹیلی جنس مدد فراہم کرچکی ہے، جبکہ جنگ بھی اسرائیل نے مسلط کی تھی، اور پھر ہماری ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے امریکا جنگ میں شامل بھی ہوا تھا۔ عباس عراقچی نے بتایا کہ ہمارے سفارتکار چین اور روس سے رابطے میں ہیں تاکہ مغربی ممالک کی جانب سے اسنیپ بیک پابندیوں سے نمٹا جاسکے۔


































