
تہران: ایرانی عدالت نے امریکا کو بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے پر 33 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ ایران میں 1980 کی فوجی بغاوت میں جاں بحق افراد کے لواحقین نے عدالت میں قانونی درخواست دائر کی تھی جس میں امریکا سے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے لواحقین کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ امریکی حکومت مدعیوں کو 3 کروڑ ڈالر مادی و اخلاقی نقصانات اور 30 کروڑ ڈالر تعزیری ہرجانے کی مد میں ادا کرے۔
اسلامی انقلاب کے ایک سال بعد فوجی افسران کے ایک گروپ نےنئی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔ باغیوں کی قیادت ایرانی فضائیہ کے سابق کمانڈر سعید مہدیون کر رہے تھے اور ان کا ہیڈ کوارٹر مغربی صوبہ ہمدان کے ایک فضائی اڈے نوجہ میں تھا۔ بغاوت کے منصوبہ سازوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ متعدد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ باغیوں کامقصد پورے ملک میں فوجی اڈوں پر قبضہ کرنا اور انقلابی رہنماؤں کے اسٹریٹجک مراکز اور رہائش گاہوں کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔ 2017 میں اسلامی انقلاب کے دستاویزی مرکز نے انکشاف کیا کہ امریکہ نے 1980 میں نوجہ کی بغاوت کی سازش کو ڈیزائن کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔


































