
بیروت :حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے یوم عاشور کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ہم اپنے مقدسات کی توہین کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر اصرار کرنا اسلام کے خلاف جرم اور دنیا بھر کے 2 ارب مسلمانوں کی توہین ہے۔ حسن نصر اللہ نے کہا کہ اسلامی ممالک اور ان کے وزرائے خارجہ کو سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن کریم کی توہین کے جواب میں موثر اور ٹھوس فیصلے کرنے چاہئیے۔ ڈنمارک اور سوئیڈن کو واضح اور ٹھوس پیغام دینا چاہئے کہ آئندہ توہین قرآن پر کا سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ ہم قرآن کی بےحرمتی پر اسلامی تعاون تنظیم کے ٹھوس موقف کے منتظر ہیں ورنہ یہ ادارہ ہمارے مذہب کے دفاع کےلیے نااہل ہو جائے گا۔ حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر ممالک ایسا نہیں کرتے ہیں تو دنیا کے بہادر مسلمان اور مسلمان نوجوان ذمہ داری سے کام لینے اور اپنے مذہب کے دفاع میں قرآن کی بے حرمتی اور جلانے والوں کو سزا دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ان نوجوانوں کی جرات کو دیکھے گی جو اپنے دین اور کتاب کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وحشی صیہونیوں کے اقدامات کے بارے میں میں یہ بھی کہوں گا کہ صیہونی دشمن کو تمام مسلمانوں کی طرف سے سخت موقف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حسن نصراللہ نے کہا کہ ہمارا خطہ اس وقت تک آرام نہیں کرے گا جب تک اس سرطانی غدود کو تباہ اور ختم نہیں کر دیا جاتا۔ آج فلسطینی قوم مزاحمت اور جدوجہد کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں بیروت کے جنوبی مضافات سے اپنی مکمل حمایت اور حزب اللہ کی افواج اور فلسطینی قوم کی مزاحمت کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسلامی مقاومت اپنی برتری اور دولت اور اقتدار کے کھیل میں شامل نہیں ہونا چاہتی ہے۔ ہم عوام کے لئے سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ اقتدار عوام کی مشکلات حل کرنے اور ان کے مفادات کی حفاظت کا بہترین طریقہ ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ مغربی ممالک کی وجہ سے آج دنیا میں بھوک و افلاس کا دور دورہ ہے۔ مغربی ممالک کی ناانصافی اور ظلم کی وجہ سے دنیا کو غذائی اور دیگر بحرانوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا عالمی نظام بعض مخصوص افراد کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے جو دنیا میں جنگ اور بیماریاں پھیلانے کی خواہش رکھتے ہیں۔


































