
جکارتہ : انڈونیشیا نے گردوں کے امراض کے باعث 99 بچوں کی ہلاکت کے بعد ہر قسم کے کھانسی کے شربت کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک بیماری کی وجہ جاننے کے لیے انڈونیشین وزارت صحت کی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی۔ اب تک انڈونیشیا میں گردوں کے مسائل کے 206 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اور زیادہ تر بچوں کی عمر 6 سال سے کم ہے۔ بھارتی دواؤں کے استعمال سے مبینہ طور پر 66 بچے ہلاک، عالمی ادارہ صحت نے الرٹ جاری کر دیا۔ حکام کی جانب سے سیال ادویات کے اجزا کے ممکنہ زہریلے اثرات کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ اب تک بچے ہی زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا۔ترجمان کے مطابق جنوری سے ہی ایسے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوگئے تھے مگر ان کی تعداد میں اگست کے بعد سے تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔


































