
نئی دہلی: ہندوستان کے فساد زدہ صوبے منی پور میں دو خواتین سے اجتماعی زیادتی اور برہنہ پریڈ کی ویڈیو نے غم و غصہ کی نئی لہر دوڑادی۔ منی پور میں انسانیت سوزی کا یہ واقعہ فساد شروع ہونے کے اگلے دن پیش آیا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگوں کا ہجوم دو کوکی خواتین کو برہنہ پریڈ کرارہا ہے۔ خواتین رو رو کر التجا کررہی ہیں لیکن ہجوم مسلسل انہیں ہراساں کررہا ہے۔ بعد دونوں خواتین کو کھیت میں لے جاکر اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔انڈیجینس ٹرائبل لیڈرز فورم کی جانب سے اس واقعہ کی شدید مذمت کی گئی۔ آئی ٹی ایل ایف نے کہا کہ ہجوم نے دو خواتین کے ساتھ زیادتی سے پہلے ان کے ساتھی دو مردوں کو مار مار کر ہلاک کردیا تھا۔ ہجوم کا تعلق میتئی تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔ شرمناک واقعہ کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیا اور حکومت کو 28 جولائی تک سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نےکہا کہ یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں فوری ایکشن لیں۔ ہم حکومت کو کارروائی کرنے کے لیے تھوڑا وقت دے رہے ہیں اگر ایکشن نہ لیا تو ہم خود قدم اٹھائیں گے۔ ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی منی پور معاملے پر اپنی طویل خاموشی توڑ دی انہوں نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ منی پور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مہذب معاشرے کے لئے شرمناک ہے۔ یہ پورے ملک کو شرمندہ کرنے جیسا ہے۔ ان واقعات کے ذمہ داروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ قصورواروں کو سخت ترین سزا ملے گی۔ منی پور کے معاملے پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ جبکہ اپوزیشن نے خواتین کو برہنہ گھمانے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے منی پور کے وزیر اعلیٰ کے فوری استعفیٰ اور صدر راج نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔


































