
بنگلورو : ہندوستان کے صوبے مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کے مکانات گرانے کی مہم میں تیزی آگئی۔ مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع کے سرجانی گاؤں میں انتظامیہ نے مسلمانوں کے مزید پانچ مکانات گرانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔چار اکتوبر کو مسلمانوں کے تین مکانات غیرقانونی قرار دے کر گرادئے گئے تھے۔ یہ کارروائی ان 19 لوگوں کے نام سامنے آنے کے بعد کی جارہی ہے جنہیں گربا پنڈال پر پتھراؤ کے مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔ نوٹس کے چوبیس گھنٹوں کے اندر پانچوں گھروں کو مسمار کردیا جائے گا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مکانات گرانے کی پالیسی کو نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔ بورڈ کے جنرل سیکریٹری خالد صفی اللہ رحمانی نے کہا کہ کچھ ریاستی حکومتیں اسرائیل جیسی پالیسیاں اپنا رہی ہیں اور معمولی الزامات پر گھروں کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزر کلچر نافذ کر رہی ہیں۔

































