
بیروت : حزب اللہ کی مزاحمت کے بعد صیہونی حکومت سمندری سرحد کی حدبندی پر لبنان کا موقف تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا۔امریکی ثالثی میں کامیاب مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے تاریخی معاہدہ کے قریب۔ صیہونی حکومت پہلے لبنان کی شرائط ماننے سے انکار کرتی رہی تاہم حزب اللہ کے سخت موقف نے اسے جھکنے پر مجبور کردیا۔ لبنان کے صدر میشال عون نے کہا کہ امریکی سفیر آموس ہوچسٹین کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ حتمی متن لبنان کے لیے اطمینان بخش ہے ۔حد بندی کے معاہدے کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ لبنان کے ڈپٹی اسپیکر الیاس بو صاب نے کہا کہ معاہدہ سے دونوں فریق مطمئن ہیں۔لبنان نے اپنے مکمل حقوق حاصل کرلیے ہیں اور اس کے تحفظات دور کردئے گئے ہیں۔ حتمی مسودے میں لبنان کی تمام ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ سمندری حد بندی پر معترض حزب اللہ نے بھی معاہدے کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ پارٹی نے معاہدے کی شرائط پر اتفاق کیا ہے ۔صیہونی وزیراعظم یائرلاپیڈ نے معاہدے پر اتفاق کی تصدیق کی اور تاریخی کامیابی کو سراہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاہدے سے اسرائیل کی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کو حل کرنے کے لیے بات چیت 2020 میں شروع ہوئی تھی لیکن کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے سے قبل انھیں بار بار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


































