
بیروت : حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت پر امریکہ و اسرائیل کا ایجنڈا نافذ کرنے کا الزام کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ ہتھیار ڈالے گی نہ ہی مزاحمت ترک کرے گی۔ اربعین پر اپنے خطاب میں شیخ نعیم قاسم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حزب اللہ اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گی جب تک کہ اسرائیل کا قبضہ ختم نہیں ہو جاتا۔ حکومت کے تخفیف اسلحہ کے فیصلے سے خانہ جنگی پیدا ہو سکتی ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حکومت امریکی حکم پر عمل درآمد اور اسرائیلی منصوبے کی خدمت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دراصل امریکہ اور اسرائیل کے اس منصوبے پر عمل کر رہی ہے جس کا مقصد مزاحمت کو ختم کرنا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں ملک خانہ جنگی کا شکار ہی کیوں نہ ہو جائے۔ حزب اللہ کے سربراہ نےحکومت کو فوج کو اندرونی لڑائی میں گھسیٹنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اور امل نے اسلحہ واپس لینے کے فیصلے کے بعد سڑکوں پر نہ آنے کا انتخاب کیا لیکن اگر محاذ آرائی مسلط کی گئی تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ صرف حکومت کے پاس ہتھیار ہونے چاہئیں، کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اسرائیل کا فوجی سربراہ ہماری زمین پر قبضے پر اپنی فوج کو مبارکباد دے رہا ہے؟ کیا انہوں نے نتن یاہو کی گریٹر اسرائیل والی باتیں نہیں سنیں؟ انہوں نے کہا کہ مزاحمت کو اپنی پہچان اور حق اُن شہداء کے خون سے ملا ہے جنہوں نے اپنی جان قربان کی، اسے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم تیار ہیں، اور وقت آنے پر سڑکوں پر بھی آئیں گے، امریکی سفارتخانے کا رخ بھی کریں گے یا دیگر ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ ابھی تک ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت میں رہیں تاکہ معاملات کو درست راہ پر ڈالا جاسکے۔


































