
تل ابیب: حماس کے حملے سے اسرائیل کو جانی و مالی نقصان ہی نہیں ہوا بلکہ اس کی معاشی بنیادیں بھی ہل گئی ہیں۔ اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ چار دن کی جنگ میں ملکی معیشت کو اب تک 27 ارب شیکل یعنی چھ ارب ڈالر سے زائد کا جھٹکا لگ چکا ہے۔ یہ نقصان حزب اللہ سے 2006 کی 34 روزہ جنگ کےمقابلے میں تین گنا ہے۔ اس جنگ میں 9 ارب شیکل کا نقصان ہوا تھا۔رپورٹ کےمطابق اسرائیلی کرنسی اپنی سات سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور یہ ڈالر کے مقابل تین فیصد تک گرچکی ہے۔ اسرائیل کے مرکزی بینک نے زوال پذیر کرنسی مستحکم کرنے کیلئے 30 ارب ڈالرعالمی مارکیٹ میں بیچنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی اسٹاک مارکیٹ بھی گراوٹ کا شکار ہے اور سات فیصد تک نیچے آچکی ہے۔ جس کے اثرات عالمی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب تمام بین الاقوامی ائرلائنز نے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں اور کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے عارضی طور پر اپنے کام بند کر دیے ہیں۔ ان میں آئل وگیس، آئی ٹی، بینک اور دوسرے ادارے شامل ہیں۔


































