
نیویارک : اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیریس کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جنگ کا طریقۂ کار بنیادی طور پر غلط ہے، جس میں شہری جانوں اور وسیع تباہی کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ نیویارک میں رائٹرز نیکسٹ کانفرنس سے گفتگو میں گوتیریس نے کہا کہ اسرائیلی فوجی کارروائی میں شہری ہلاکتوں کی پروا نہیں کی گئی اور غزہ کو تباہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اسرائیل کا مقصد حماس کو ختم کرنا تھا، مگر غزہ تباہ ہو چکا ہے اور حماس اب بھی برقرار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا طریقہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کے امکانات خاصے مضبوط ہیں۔ گوتیریس نے مزید کہا کہ شہریوں کی حفاظت، بنیادی انفراسٹرکچر اور انسانی جانوں کی حرمت کو نظر انداز کرنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر اس تباہ کن صورتِ حال کا حل تلاش کرنا ہوگا۔


































