
ایتھنز: یونان کے قریب کشتی ڈوبنے کے بدترین سانحہ میں تین سو پاکستانیوں کی موت کی اطلاعات نے کہرام مچادیا ہے۔ چودہ جون کو لیبیا سے اٹلی کیلئے روانہ ہونے والی کشتی ڈوبنے سے 78 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک سو چار کو بچالیا گیا تھا۔ جس میں بارہ پاکستانی بھی شامل ہیں۔ بچنے والوں نے بتایا کہ کشتی پر 750 سے زائد افراد سوار تھے جس میں 298 پاکستانی سمیت مصر۔فلسطین ۔شام اور دیگر ممالک کے تارکین سوار تھے۔پاکستانیوں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کوٹلی سے بتایا جاتا ہے۔ لاپتہ افراد کی تلاش کا کام روک دیا گیا ہے کیونکہ کسی کے زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں۔ بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی موت کی اطلاعات سے کھلبلی مچ گئی ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی تعداد اور شناخت کی کوشش کی جارہی ہے۔ زیادہ دیر نمک والے پانی میں رہنے کی وجہ سے لاشیں قابل شناخت نہیں ہیں اس لئے اب انکی شناخت کے لئے ڈی این اے کا عمل کیا جائیگا۔ ادھر لوگوں کو بیرون ملک بھیجنے والے انسانی اسمگلرز کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے نے گیارہ انسانی اسمگلرز کو گرفتار کرلیا ہے۔


































