
لندن: انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چین کے صوبہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی ردعمل کو مایوس کن قرار دے دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاکہ سنکیانگ میں مسلم اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کو ایک سال گذر گیا۔ لیکن بین الاقوامی کمیونٹی کا ردّعمل انتہائی ناکافی ہے اور وہ ٹھوس اقدامات لینے سے کترا رہی ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق والکر ٹرک چینی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے میں ناکام رہے جبکہ سابقہ سربراہ مشیل باشلے نے بھی تاخیر سے رپورٹ جاری کی تھی۔ جس میں بیجنگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تشدد، صوابدیدی حراست اور مذہبی اور تولیدی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ ایمنسٹی کی چین کے لیے نائب ریجنل ڈائریکٹر سارہ بروکس کا کہنا ہے کہ ہمیں قومی اور بین الاقوامی عہدیداران کی ضرورت ہے جن میں ہائی کمشنر جیسے انسانی حقوق کے حکام بھی شامل ہوں تاکہ وہ تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے چین کی جابرانہ پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی معنی خیز کوشش کریں۔


































