
جنیوا : اقوام متحدہ کے ماہر نے خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ میں تباہی کا پیمانہ اتنا وسیع ہے کہ بحالی کا عمل کئی نسلوں تک جاری رہے گا۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بالا کرشنن راج گوپال نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ شمالی غزہ واپس جانے والے بے گھر فلسطینی صرف ملبہ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوگوں پر گہرے نفسیاتی اثرات اور صدمہ واضح طور پر نظر آرہا ہے، کیونکہ وہ اپنے تباہ شدہ علاقوں میں کسی سہولت یا پناہ گاہ کے بغیر واپس جا رہے ہیں۔ راج گوپال نے اسرائیل سے فوری طور پر خیمے اور عارضی رہائش فراہم کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ موجودہ حالات میں بے سہارے زندہ رہنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ راج گوپال نے کہا کہ یہ تباہی دراصل “ڈومیسائیڈ” یعنی رہائش گاہوں کی منظم تباہی کی ایک شکل ہے، جو نسل کشی کے عمل کا ایک بنیادی حصہ ہے۔


































