
دوحہ: حماس کے رہنما خالد مشعل نے کہا کہ غزہ تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا یہ کہ مزاحمت کرنے کی بڑی قیمت ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مزاحمت کی قیمت پر غزہ کو تباہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صحیح معنوں میں اوسلو کے آگے کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اب اس کے بارے میں بات کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ حقیقت ہمیں اوسلو معاہدے سے آگے بڑھ جانے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف غزہ نہیں بلکہ ہر کسی کو لڑائی میں شامل ہونا چاہیے۔ فلسطینی گھر کو دوبارہ ترتیب دینا ایک ناگزیر حق ہے جس سے بچ کر نکلا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں فلسطینیوں کے گھر کو ترتیب دینے کے لیے جنگ کے خاتمے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ایران کے کردار سے متعلق خالد مشعل نے وضاحت کی کہ تہران کا کردار سات اکتوبر کے حملے کے بعد سیاسی اور عسکری طور پر سامنے آیا۔


































