
ماسکو : ایک ایسے وقت میں جب یورپ سمیت دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ روس قدرتی گیس کی بڑی مقدار کو جلا کر ضائع کر رہا ہے۔فن لینڈ کی سرحد کے قریب پورٹوویا شہر کے ایل این جی پلانٹ میں یومیہ ایک کروڑ امریکی ڈالر کی گیس جلا کر ضائع کی جا رہی ہے جو جرمنی برآمد کی جانی تھی۔ رسٹاڈ انرجی کے تجزیے کے مطابق روزانہ جلائی جانے والی گیس کی مقدار تقریباً 45 لاکھ کیوبک میٹر ہے۔ اس کی نشان دہی سب سے پہلے روس اور فن لینڈ کی سرحد کے قریب بسنے والے شہریوں نے کی جنھوں نے آسمان میں بلند ہوتا بڑا سا شعلہ دیکھا۔ تاہم جولائی سے اس پائپ لائن سے سپلائی تعطل کا شکار ہے اور روس کی جانب سے اس کی وجہ تکنیکی مسائل بتائی گئی تھی۔ جرمنی کا کہنا ہے کہ دراصل یہ ایک سیاسی چال ہے۔جون میں محققین نے اس پلانٹ سے خارج ہونے والی حدت میں اضافہ نوٹ کیا جو قدرتی گیس کو جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔ادھر یورپ میں روسی گیس میں کمی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے معاشی اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ اس حوالے سے جو انڈسٹریز سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، ان میں کھاد بنانے، زرعی، گوشت اور دیگر مصنوعات کو فریز کرنے والی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ان مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچانے کیلئے استعمال ہونے والی ٹرانسپورٹ، اسپتالوں میں آپریشن کیلئے استعمال ہونے والی گیس، سافٹ ڈرنکس اور بیئرز بنانے والی کمپنیاں شامل ہیں۔


































