Wed Oct 21, 2026

ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا میں دفاعی تعاون کا سمجھوتہ دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں، ایرانی صدر پاکستان اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، منظوری کیلئے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش فیلڈ مارشل اور ایرانی سیکورٹی چیف کی ملاقات، افزودہ یورینیم ایران سے باہر نہیں جائے گی، رضائی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، 53 افراد ہلاک؛ خواتین اور بچے بھی نشانہ بن گئے پنجاب کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی، نیا آرڈیننس نافذ مارو اور بھاگ جاؤ کا دور ختم ہو گیا، ایران ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ، یہود دشمنی پر تادیبی کارروائی کی شقیں بھی شامل البانیہ میں پرتشدد مظاہروں میں مزید شدت، دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں امریکی وزیرِ جنگ کا اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ، نیتن یاہو سے ملاقات: ایگزیوس امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار

روزانہ کی خبریں

یورپ میں گیس کا بحران، قیمتیں آسمان پر، روس نے گیس جلاکر ضائع کرنا شروع کردی

ماسکو : ایک ایسے وقت میں جب یورپ سمیت دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ روس قدرتی گیس کی بڑی مقدار کو جلا کر ضائع کر رہا ہے۔فن لینڈ کی سرحد کے قریب پورٹوویا شہر کے ایل این جی پلانٹ میں یومیہ ایک کروڑ امریکی ڈالر کی گیس جلا کر ضائع کی جا رہی ہے جو جرمنی برآمد کی جانی تھی۔ رسٹاڈ انرجی کے تجزیے کے مطابق روزانہ جلائی جانے والی گیس کی مقدار تقریباً 45 لاکھ کیوبک میٹر ہے۔ اس کی نشان دہی سب سے پہلے روس اور فن لینڈ کی سرحد کے قریب بسنے والے شہریوں نے کی جنھوں نے آسمان میں بلند ہوتا بڑا سا شعلہ دیکھا۔ تاہم جولائی سے اس پائپ لائن سے سپلائی تعطل کا شکار ہے اور روس کی جانب سے اس کی وجہ تکنیکی مسائل بتائی گئی تھی۔ جرمنی کا کہنا ہے کہ دراصل یہ ایک سیاسی چال ہے۔جون میں محققین نے اس پلانٹ سے خارج ہونے والی حدت میں اضافہ نوٹ کیا جو قدرتی گیس کو جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔ادھر یورپ میں روسی گیس میں کمی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے معاشی اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ اس حوالے سے جو انڈسٹریز سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، ان میں کھاد بنانے، زرعی، گوشت اور دیگر مصنوعات کو فریز کرنے والی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ان مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچانے کیلئے استعمال ہونے والی ٹرانسپورٹ، اسپتالوں میں آپریشن کیلئے استعمال ہونے والی گیس، سافٹ ڈرنکس اور بیئرز بنانے والی کمپنیاں شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular