
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم کو توشہ خانہ کیس میں تین سال کی سزا کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ہوئی ، جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو ان کی عدم موجودگی میں تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔ جبکہ انہیں پانچ سال کیلئے نااہل بھی قرار دے دیا گیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف الزام ثابت ہوگیا ہے۔ ملزم نے جھوٹا بیان جمع کروایا، ملزم نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی بددیانتی ثابت ہو گئی ہے۔ عدالت نے عمران خان کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی اسلام آباد وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کروائے۔ عدالتی حکم کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ زمان پارک سے گرفتار کرلیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے چیئرمین کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق توشہ خانہ مقدمے کے ذریعے نظامِ عدل کی پیشانی پر ایک اور سیاہ دھبّہ لگایا گیا اور تاریخ کے بدترین ٹرائل میں انصاف کے قتل کی کوشش کی گئی۔


































