
واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ نے آذربائیجان اور دیگر وسط ایشیائی ممالک کو معاہدہ ابراہیم میں شامل کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل نے معاملے سے واقف پانچ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ آذربائیجان کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کررہی ہے اور اسے توقع ہےکہ آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر ہوجائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق آذربائیجان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ پہلے ہی طویل عرصے سے تعلقات ہیں اور معاہدے میں شامل کرنے کا مقصد نمائشی ہے تاکہ تجارت اور عسکری تعاون سمیت تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے۔
رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کے پڑوسی ملک آرمینیا کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان امن معاہدہ کروانے پر غور کر رہے ہیں۔ ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے سامنے معاہدہ ابراہیم میں شامل ہونے کی شرط رکھی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اس حوالے سے کئی ممالک کے نام لیے ہیں جبکہ آذربائیجان کے ساتھ خصوصی، انتہائی منظم اور سنجیدہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔


































