
جنیوا : عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے دو ہفتے بعد بھی صورت حال خطرناک ہے۔ غزہ میں خوراک کا بحران بدستور تباہ کن ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا ہے کہ بھوک میں کوئی کمی نہیں آئی کیونکہ خوراک کی مقدار کافی نہیں ہے۔ جو امداد پہنچ رہی ہے وہ ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم ایک چوتھائی آبادی، جس میں 11,500 حاملہ خواتین شامل ہیں، بھوک کا شکار ہے اور غذائی قلت کے اثرات نسل در نسل جاری رہیں گے۔
اقوام متحدہ کی پاپولیشن فنڈ کی رپورٹ کے مطابق نومولود بچوں میں 70 فیصد قبل از وقت یا کم وزن ہیں جو اکتوبر 2023 سے پہلے 20 فیصد تھا۔ غذائی قلت نہ صرف والدہ بلکہ نومولود پر بھی طویل مدتی اثرات ڈالے گی، جس سے بچے کی زندگی بھر نگہداشت اور صحت کے مسائل پیدا ہوں گے۔
بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اسرائیل سے انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ بحران میں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


































