
People walk along a destroyed road past heavily-damaged buildings in the centre of Khan Yunis in the southern Gaza Strip on October 10, 2025, as the displaced return to their homes after Israeli forces’ withdrawal. Gaza’s civil defence agency said on October 10 that Israeli forces have begun pulling back from parts of the territory, particularly in Gaza City and Khan Yunis. Israeli forces declared a ceasefire and withdrew from some positions as thousands of displaced Palestinians began to trek home and the families of October 7 hostages awaited news. (Photo by Omar AL-QATTAA / AFP) (Photo by OMAR AL-QATTAA/AFP via Getty Images)
نیویارک : اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہےکہ جنگ بندی کے باجود غزہ میں انسانی ہمدردی کے اقدامات میں بڑی رکاوٹیں ابھی بھی موجود ہیں۔ ٹام فلیچر نے کہاکہ جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے دس لاکھ سے زائد افراد کو خوراک فراہم کی ہے۔ خوراک کی تقسیم کے مراکز دوبارہ کھول دیے گئے ہیں اور اسپتالوں میں زیادہ مریضوں کا علاج ہو رہا ہے۔ فلیچر نے کہا کہ سڑکیں کلیئر کی گئی ہیں اور ویکسینیشن، پانی کی لائنوں کی مرمت، سردیوں کے کپڑے اور کمبل تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کی خدمات بھی بحال ہو گئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اب بھی بہت سی رکاوٹیں باقی ہیں۔ جب یہ رکاوٹیں کم ہوں گی تو ہم بہت زیادہ جانیں بچانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
ادھر غزہ میونسپلٹی نے سردیوں کی بارشیں شروع ہوتے ہی انسانی صورتحال شدید خراب ہونے سے خبردار کیا ہے۔ غزہ میونسپلٹی کے بیان میں بتایا گیا کہ سیوریج اور پانی کے نظام کی تباہی اور رہائشی انفراسٹرکچر کے وسیع پیمانے پر نقصان کے سبب بارش ہزاروں بے گھر افراد کی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے۔


































