
پاراچنار: ضلع کرم میں 7 روز سے جاری جھڑپیں ختم ہوگئیں، فریقین میں امن معاہدہ ہوگیا۔ امن جرگہ میں فریقین نے ایک سال تک فائر بندی معاہدے پر دستخط کردیے۔ معاہدہ فوری نافذ العمل ہوگا۔ دونوں گروپس کے مورچہ زن مسلح افراد واپس گھروں کو چلے گئے ہیں جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مورچوں میں پوزیشنز سنبھال لی ہیں۔ معاہدے کے تحت امن و امان میں خلل ڈالنے والے کسی بھی فرد کو تحفظ نہیں دیا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں 12 کروڑ روپے جرمانہ جبکہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تمام راستے بحفاظت عوام کی سہولت کیلئے کھلے رہیں گے۔ وفاقی وزیر ساجد طوری نے کہا کہ فائر بندی کا معاہدہ نیک شگون ہے۔ معاہدے کے تحت اصل مجرموں تک پہنچنے میں آسانی ہوگی، جہاں واردات ہوگی مجرموں کا پتہ لگا کر کارروائی کی جائے گی۔
ضلع کرم میں طالبان اور تکفیریوں کی لشکر کشی میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ صورتحال پر قابو پانے کیلئے خیبر پختونخوا حکومت نے ضلع کرم میں فوج اور ایف سی طلب کرلی تھی۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق ضلع کرم میں امن و امان کی صورتحال معمول پر آنے تک فوج تعینات رہے گی۔


































