
جنیوا : عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹيڈروس اڈہانوم گيبريسوس نے کہا ہے کہ غزہ میں بچوں کے درمیان شدید غذائی قلت کی ماہانہ شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ایک بیان میں کہاہے کہ گذشتہ ماہ غزہ میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 12 ہزار بچوں میں شدید غذائی قلت کی تشخیص ہوئی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ رواں سال کے آغاز سے انتیس جولائی تک کم از کم ننانوے افراد غذائی قلت کے باعث شہید ہو چکے ہیں۔ جس میں چونسٹھ بالغ اور پینتیس بچے شامل ہیں۔ ان میں سے انتیس بچے پانچ سال سے کم عمر کے تھے۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت غزہ میں تقریباً پچیس ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔


































