
شیراز : ایران کے شہر شیراز میں امام زادہ محمد بن موسی کاظم المعروف شاہ چراغ کے مزار پر حملے کے شہدا کو سپرد خاک کردیا گیا۔ 6 شہدا کے جنازوں کو جلوس کے شکل میں مرکزی اسکوائر سے روضہ حضرت شاہ چراغ لایا گیا۔ جلوس میں ہزاروں شہریوں کے علاوہ صوبے کے گورنر، ولی فقیہ کے نمائندے اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر کے علاوہ بڑی تعداد میں اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔ جلوس جنازہ میں شریک لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں شہیدوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے دہشت گردی سے نفرت اور بیزاری کا اعلان کیا۔ شہدا کی نماز جنازہ مزار شاہ چراغ پر ادا کی گئی۔ نماز جنازہ صوبہ فارس میں ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے نمائندے اور امام جمعہ آیت اللہ لطف اللہ دیجکم کی امامت میں ادا کی گئی۔ جنازہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر جنرل حسین سلامی نے حالیہ واقعات کو امریکا، برطانیہ ، سعودی عرب اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور سازش کا نتیجہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ شہدائے شیراز کے جلوس جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی عوام اسلامی نظام کے وفادار ہیں اور دشمن کا پروپیگنڈہ ، ابلاغیاتی شور شرابے سے زیادہ نہیں۔ اسی طرح کا ایک جلوس قریبی شہر یاسوج میں بھی نکالا گیا۔ جہاں دو شہدا کے جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔


































