
تہران : ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں حضرت فاطمہ زہراء بنتِ رسول خاتمؐ کے یوم شہادت پر 1980 کی دہائی میں عراق کی مسلط کردہ جنگ کے 300 گمنام شہداء کی تدفین کی تقریبات ہوئیں۔
ملک بھر میں عوام نے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان تقریبات میں بھرپور شرکت کی۔ تہران میں مقدس دفاع کے 100 شہداء کے لیے ایک بڑا جلوس نکالا گیا، جس میں اعلیٰ فوجی اور سرکاری حکام، شہداء کے اہلِ خانہ اور عام شہری شریک ہوئے۔ یہ جلوس عراق کے سابق آمر صدام حسین کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ میں دی گئی قربانیوں کی یاد میں نکالا گیا۔ شرکاء نے شہداء کو ان کی آخری آرام گاہوں تک پہنچایا، جن میں یونیورسٹیاں، دینی مدارس، سرکاری اداروں کے احاطے اور کئی عوامی پارکس شامل تھے۔
مشہد، قم، کاشان، ارومیہ۔ خرم آباد اور دیگر شہروں میں 200 مزید گمنام شہداء کی تدفین عمل میں آئی، جس نے قوم کے لیے یادگاری اور اتحاد کا دن بنا دیا۔ ان شہداء کی باقیات زیادہ تر ایران کے مغربی اور جنوب مغربی علاقوں سے ملی ہیں، جو عراق کی مسلط کردہ جنگ کے دوران محاذِ جنگ میں رہے تھے۔


































