
لندن : برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے فلسطین کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی کابینہ کو بتایا کہ اگر اسرائیلی حکومت غزہ میں تشویش ناک صورتحال کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی اور جنگ بندی تک نہیں پہنچتی تو برطانیہ ‘ستمبر’ میں جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل فلسطین کو تسلیم کرلے گا۔
انہوں نے مغربی کنارے میں الحاق نہ کرنے اور امن عمل کیلئے دو ریاستی حل فراہم کرنے کو بھی اپنی شرط قرار دیا انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی برابری نہیں اور ہماری حماس سے متعلق یرغمالیوں کو رہا کرنے کی شرائط برقرار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حماس جنگ بندی پر دستخط کرے اور یہ تسلیم کرے کہ وہ غزہ کی حکومت میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی اور ہتھیار ڈالے گی۔
وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹامر نے تسلیم کیا کہ فلسطینی عوام نے ناقابلِ بیان تکالیف برداشت کی ہیں اور اب غزہ میں خوراک کی کمی کے بعد ہمیں بھوکے بچوں سمیت وہ مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جو عمر بھر ہمارے ذہن میں رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ تکلیف ختم ہونی چاہیے۔
جنگی مجرم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر برطانوی وزیراعظم سر کیر اسٹارمر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کا فیصلہ حماس کی خوفناک دہشت گردی کا انعام اور اس کے متاثرین کو سزا دینا ہے.


































