Tue Oct 13, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

توہینِ قرآن اظہار رائے نہیں اشتعال انگیزی ہے، او آئی سی

جدہ : اسلامی تعاون تنظیم اور رابطہ عالم اسلامی نے سوئیڈن میں قرآن کریم کی بےحرمتی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے ایک بیان میں توہین قرآن کو اشتعال انگیزی قرار دیا۔ اور کہاکہ یہ بات انتہائی مایوس کن ہے کہ کہ سویڈش حکام قرآن جلانے کے اجازت نامے جاری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سویڈش حکومت قرآن کریم کی بے حرمتی کے حوالے سے انتہا پسند افراد اور تنظیموں کو پرمٹ جاری کرنا بند کرے۔ بین الاقوامی قانون کی پابندی کی جائے۔ ایسا اشتعال انگیز سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ وہ تنظیم کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس کے اعلامیے پر عمل درآمد کے حوالے سے رکن ملکوں سے مشاورت کررہے ہیں۔ اشتعال انگیزیوں روکنے کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ رابطہ عالم اسلامی نے بھی توہین قرآن کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے بہانے قرآن کی بے حرمتی کے سرکاری اجازت ناموں کا اجرا مایوس کن ہے۔ سرکاری منظوری سے اس قسم کے واقعات افسوسناک ہیں۔ یہ اظہار رائے کی آزادی نہیں بلکہ اس کی توہین کے دائرے میں آتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular