
گجرات : بھارت میں بلقیس بانو اجتماعی زیادتی کیس کے 11 مجرموں کی رہائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ حقوقِ نسواں کیلئے کام کرنیوالے کارکنان ریوتی لاؤل, سبھاشنی علی اور روپ ریکھا ورما کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان مجرمان کو رہا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اجتماعی عصمت دری اور قتل کا کیس ہے۔اس کیس میں 2 سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل اور اپرنا بھٹ کی جانب سے بھی بھی چیف جسٹس آف بھارت این وی رمنا کی سربراہی میں بینچ بنانے اور مجرمان کی رہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ایڈووکیٹ کاسبل کا سماعت کے دوران کہنا تھا کہ یہ بہت سنجیدہ کیس ہے، اس کیس میں 14 لوگ مارے گئے اور ایک حاملہ خاتون کی عصمت دری کی گئی۔کیس کی سماعت کے دوران بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست پر غور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔واضح رہے کہ 2002ء میں گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دورِ حکومت میں مسلم کش فسادات کے دوران ایک حاملہ خاتون بلقیس بانو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔


































