
کراچی: کراچی سمیت ملک بھر میں شہدائے کربلا اور نواسہ رسول(ص) حضرت امام حسین علیہ السلام کا چہلم عقیدت و احترام کے ساتھ عقیدت واحترام سے منایا گیا۔ جلوسوں میں عورتوں اور بچوں سمیت عزاداروں کی ریکارڈ تعداد شریک ہوئی۔ شاہراہوں پر سیاہ پرچم ہاتھوں میں تھامے اور لبیک یاحسینؑ کی صدائیں لگاتے عزادار جلوسوں کے ساتھ اپنی منازل پر پہنچے۔ کراچی میں مختلف علاقوں سے خواتین، مرد بچوں و بزرگوں نے قافلوں کی شکل میں صبح سے پیدل سفر کیا۔ ہزاروں عزاداران امام حسینؑ کئی کلومیٹر کا پیدل سفر کرکے نشترپارک سے برآمد ہونے والے مرکزی جلوس میں شامل ہوئے۔ مرکزی جلوس میں شرکت کیلئے پیدل سفر کرنے والے عزاداروں کیلئے راستوں میں جگہ جگہ بڑے پیمانے پر سبیلوں، نذر و نیاز کا اہتمام کیا گیا۔ کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے نکلنے کے بعد روایتی راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان کھارادر پہنچ کر اختتام پزیر ہوا۔ آئی ایس او کے زیر اہتمام امام بارگاہ علی رضا پر نماز ظہرین ادا کی گئی۔
لاہور میں بھی صورتحال مختلف نہیں تھی جہاں ٹھوکر نیاز بیگ۔ جعفریہ کالونی۔ رضوان گارڈن، امامیہ کالونی اور دیگر علاقوں سے ہزاروں عزادار پیادہ روی کرتے ہوئے کربلا گامے شاہ کے مرکزی جلوس میں شامل ہوئے۔ عزاداروں نے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے جن پر لبیک یاحسینؑ، لبیک یا مہدیؑ، لبیک یا زہراؑ، لبیک یا زینبؑ، درج تھے۔ عزادار اپنے ننھے بچوں اور اہلخانہ سمیت لبیک یا حسینؑ کی صدائیں لگاتے منزل مقصود پر پہنچے۔ اس موقع پر تمام راستوں میں لنگر اور دودھ اور شربت کی سبلیوں کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔ کراچی اور لاہور کی طرح پشاور۔ کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں بھی اربعین کے جلوسوں میں عزاداروں نے ریکارڈ تعداد میں شرکت کی۔


































