
دوحہ : حماس کے سینئر رہنما اسماعیل رضوان نے کہا ہے کہ جماعت جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پابند ہے اور کسی بھی نئی کشیدگی کے لیے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ الجزیرہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اسماعیل رضوان نے کہا کہ حماس یرغمالیوں کے معاملے کو جلد ختم کرنے اور معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے اسرائیل پر تنقید کی کہ انسانی امداد کی شق کی مکمل پاسداری نہیں کی گئی۔ روزانہ صرف 150 سے 200 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ معاہدے کے مطابق 600 ٹرک ہونے چاہئیں تھے۔ انہوں نے زرد لائن کے دوسری طرف پھنسے میں جنگجوؤں کےانخلا کا منصوبہ پیش کر چکے ہیں تاکہ کسی بھی تصادم کو روکا جا سکے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ انخلا محفوظ طریقے سے اور بغیر کسی دباؤ کے ہونا چاہیے۔


































