
واشنگٹن : امریکا نے اعتراف کیا ہے کہ تمام تر اقدامات کے باوجود روس کی تیل کی 80 تا 90 فیصد برآمدات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ امریکی محکمہ خزانے کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے بچنے کیلئے تیل بردار جہاز اپنے مفادات کو جی سیون ممالک سے ہٹا کر ایسے ممالک کی طرف لیجا رہے ہیں جو پابندیوں کی زد میں نہیں آ سکتے۔ امریکی عہدیدار نے یہ ردعمل روسی تیل کی قیمتوں کو محدود کرنے کیلئے بنائے گئے جی سیون ممالک کے میکنزم پر دیا جو 5 دسمبر سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ امریکا، کینیڈا، فرانس، جرمنی اٹلی، برطانیہ اور جاپان نے مشترکہ طور اس میکنزم پر گزشتہ ماہ اتفاق کیا تھا نیوزایجنسی رائٹرز نے بھی واضح کیا ہے کہ روس، جی سیون کے میکنزم اور اس کے اثرات کو توڑنے میں کامیاب رہے گا۔ اس کامیابی کی اہم وجہ یہ ہے کہ روس کے پاس خام تیل برآمد کرنے کیلئے اپنے اور ایشیائی ممالک کے بحری جہازوں کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے جنہیں استعمال کرکے وہ جی سیون کی عائد کردہ پابندیوں کے اثرات کو زائل کر سکے گا۔


































