
جدہ : سعودی عرب میں ایک بارپھر اجتماعی پھانسی کی تیار کرلی گئی ہے ۔اس بات کا انکشاف انسانی حقوق کی تنظیم دی کمیٹی فار دی ڈیفینس آف ہیومین رائٹس ان عرب پینیسولا نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حراستی مراکز میں قید سیاسی مخالفین اور کارکنوں کو وحشیانہ جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ بیروت میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے رپورٹ دی ہے کہ دارالحکومت ریاض میں نام نہاد خصوصی فوجداری عدالت نے محض سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرنے، پرامن جمہوریت نواز ریلیوں میں شرکت یا سماجی امتیاز کی مذمت کرنے کی پاداش میں مزید کئی سعودی شہریوں کو موت کی سزا سنائی ہے۔ جس میں شامل یوسف المنصف، عبدالمجید النمر، جواد قاریس، محمد الفراج، حسن ذکی الفراج اور علی حسن السبیطی کی شناخت ہوئی ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بڑے پیمانے پر پھانسی کے عمل کو روکیں، جو جھوٹے الزامات کے تحت اور قانونی معیار پر مبنی نہیں۔


































