
Acting Assistant Secretary of Defense for International Security Affairs Dr. Mara E. Karlin speaks with Qassem Al-Araji, Iraq National Security Advisor; Staff General al-Shimary, Deputy Commander of the Joint Operations Center – Iraq and a military delegation from the Government of Iraq for the next iteration of the U.S.-Iraq Military Technical Talks, as part of the U.S.-Iraq Strategic Dialogue at the Pentagon, Washington, D.C., July 22, 2021. (DoD photo by U.S. Air Force Staff Sgt. Jack Sanders)
واشنگٹن: امریکا نے مشرق وسطیٰ میں حکومتوں کی تبدیلی کی یکطرفہ پالیسی کو ناکام تسلیم کرتے ہوئے اس سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کردیا۔ امریکا کی نائب وزیر دفاع برائے اسٹریٹیجی مارا کارلن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگیں نہیں چھیڑے گا۔ امریکا نئی قومی دفاعی حکمت عملی کے تحت علاقائی ریاستوں کے ساتھ اتحاد بڑھانے اور شراکت داری کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ کی نئی قومی دفاعی حکمت عملی مشرق وسطیٰ میں علاقائی خطرات سے نمٹنے کے لیے شراکت داری اور باہمی تعاون کے ساتھ کام کرے گا۔ مارا کارلن نے نئی قومی دفاعی حکمت عملی کو بنیادی تبدیلی قرار دیا جس کے تحت خطے سے لاکھوں امریکی فوجیوں کو نکالنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نئی پالیسی کے تحت علاقائی ممالک کے ساتھ شراکت داری، پیچیدہ فوجی مشقیں اور اتحادیوں کے ساتھ باہمی ہتھیاروں کے نظام پر کام کرنا ہو گا۔ اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے عزائم میں کوئی کمی آئی ہے۔ قومی دفاعی حکمت عملی بہت واضح ہے اور امریکہ مشرق وسطٰی میں موجود رہے گا۔ مشرق وسطیٰ کا خطہ امریکہ کی عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے اور اسے ایک اہم جز سمجھتا ہے۔ سچ کہوں تو اس خطے میں ہمارے قومی سلامتی کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کارلن نے کہا کہ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے مشرق وسطیٰ کے حالیہ دورے کے دوران امریکی حکمت عملی کو سفارت کاری اور تصادم سے بچاؤ کے طور پر بیان کیا تھا لیکن اگر ہمیں جارحیت کو پیچھے دھکیلنے پر مجبور کیا گیا تو ہم جیتیں گے اور فیصلہ کن طور پر جیتیں گے۔


































