
جنیوا : عالمی ادارۂ خوراک ڈبلیو ایف پی نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد امدادی خوراک کی ترسیل میں کچھ بہتری آئی ہے، مگر زمینی حقائق اب بھی شدید انسانی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ڈبلیو ایف پی کے ترجمان مارٹن پینر نے میڈیا کو بتایا کہ غزہ میں خوراک کی آمد میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن یہ وہاں کے بہت بڑے انسانی تقاضوں کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ مستحکم امداد ضروری ہے تاکہ خاندان اپنی صحت، غذائیت اور زندگی کو دوبارہ بحال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما کی بارشیں پہلے سے پہنچائی گئی خوراک کو خراب کر سکتی ہیں، جس سے بحران مزید شدید ہو سکتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ ادارے نے جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں چالیس ہزار ٹن خوراک پہنچائی ہے لیکن یہ خوراک صرف تیس فیصد لوگوں تک پہنچ سکی۔


































