
دمشق : شام پر مسلط کردہ احمد الشرع نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ ایک سیکیورٹی معاہدے پر بات چیت میں مصروف ہے جس کا مقصد 1974 کے معاہدے کو بحال کرنا ہے یا اسی طرح کا فریم ورک اپنانا ہے۔ احمد الشرع نے سرکاری اخبار الاخباریہ السوریہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ شام نے تیزی سے اپنے بین الاقوامی اور علاقائی تعلقات کی تعمیر نو کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمشق نے زیادہ تر قوموں، خاص طور پر خطے کے لوگوں کی طرف سے خیر سگالی دیکھی ہے۔ گیند ان لوگوں کے کورٹ میں ہے جو تنازعات کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ایران کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے الشرع نے اعتراف کیا کہ زخم کچھ گہرا تھا، ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور ایرانیوں کے درمیان مستقل طور پر دراڑ پیدا ہو جائے گی۔انہوں نے شام کی تقسیم کی کسی بھی بات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خبردار کیاکہ اگر شمال مشرقی شام نے کسی قسم کی علیحدگی کی کوشش کی تو عراق اور ترکی کو بہت نقصان پہنچے گا۔


































