
عراقی وزیراعظم سے ملاقات میںٹرمپ کا 3 سال میں فوجیں واپس بلانے کا لولی پاپ،ہم کافی تیزی سے عراق میں فوجیوں کی تعداد کم کر رہے ہیں،ٹرمپ
بغداد اور الغزالیہ کے درمیان شاہراہ پر امریکی فوجی قافلے کو بم سے نشانہ بنایا گیا، التاجی بیس کے قریب بھی امریکی فوجی قافلے پر بم حملہ ،گاڑیوں کو نقصان
بغداد /واشنگٹن(نیوز ڈیسک)عراق میں مزاحمتی گروپس نے امریکی فوجیوں پرتابڑ توڑ حملے کرکے دباو بڑھادیا ہے جبکہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی سے ملاقات کے دوران تین سال میں فوجیں واپس بلانے کا لولی پاپ دے دیا، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کو مرحلہ وار نکالا جائے گا اور اگلے تین سال میں امریکی فوج عراق سے مکمل طور پر نکل جائے گی،’ہم کافی تیزی سے عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر رہے ہیں، ہماری نظر اس دن پر ہے جب ہمیں وہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہوگی، امید ہے کہ عراق خود زندہ رہ سکتا ہے اور اپنا دفاع کر سکتا ہے، عراق کے وزیراعظم الکاظمی نے کہا کہ وہ عسکریت پسند گروپ داعش کے خلاف جنگ میں امریکی مدد کے لیے شکرگزار ہیں امریکی حمایت کی بدولت عراقی عوام کے بہترین مفاد میں امریکہ کے ساتھ شراکت داری قائم ہوئی ہے،ادھر امریکی فوج کے انخلا کے آغاز کے ساتھ ہی بغداد اور الغزالیہ کے درمیان شاہراہ پر امریکی فوجی قافلے کو نشانہ بنایا گیا، سڑک پر نصب بم سے امریکی فوجی قافلے میں شامل گاڑی تباہ ہوگئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، امریکی فوج کمپنیوں کو اپنے سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کر رہی ہیں،اس سے پہلے التاجی بیس کے قریب بھی امریکی فوجی قافلے کو بم سے نشانہ بنایا گیا، جس سے قافلے میں شامل گاڑی کو نقصان پہنچا، دھماکے میں ایک عام شہری کی گاڑی میں آگ لگ گئی اور اس کا ڈرائیور جاں بحق ہو گیا۔


































