Wed Oct 21, 2026

ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا میں دفاعی تعاون کا سمجھوتہ دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں، ایرانی صدر پاکستان اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، منظوری کیلئے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش فیلڈ مارشل اور ایرانی سیکورٹی چیف کی ملاقات، افزودہ یورینیم ایران سے باہر نہیں جائے گی، رضائی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، 53 افراد ہلاک؛ خواتین اور بچے بھی نشانہ بن گئے پنجاب کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی، نیا آرڈیننس نافذ مارو اور بھاگ جاؤ کا دور ختم ہو گیا، ایران ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ، یہود دشمنی پر تادیبی کارروائی کی شقیں بھی شامل البانیہ میں پرتشدد مظاہروں میں مزید شدت، دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں امریکی وزیرِ جنگ کا اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ، نیتن یاہو سے ملاقات: ایگزیوس امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار

روزانہ کی خبریں

فلسطینیوں کیلئے 2022 خونریز ترین، 26 بچوں سمیت کم از کم 105 فلسطینی شہید

مقبوضہ بیت المقدس : فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کی رابطہ کار نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ 16 برسوں کے دوران 2022 فلسطینی علاقوں میں سب سے خونریز سال تھا۔ مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کی رابطہ کار لوسیا ایلمی نے پرتشدد کارروائیوں میں اضافے اور مشرقی قدس سمیت غرب الاردن میں عائد کرفیو پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں 26 بچوں سمیت کم از کم 105 فلسطینی، اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے، اس لیے 2006 کے بعد 2022 خونریز ترین سال ہے۔ رواں سال مغربی کنارے میں ہلاک صیہونیوں یا غیر ملکیوں کی تعداد 17 ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف اس سال اکتوبر کے آغاز سے ہی مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں صیہونی افواج کے ہاتھوں 6 بچوں سمیت 15 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور ایسا نہیں لگتا کہ شہید ہونے والے افراد کوئی خاص خطرہ تھے۔ لوسیا ایلمی نے صیہونی حکومت کی جانب سے شعفاط، مشرقی بیت المقدس اور نابلس میں کرفیو کے نفاذ کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ ان اقدامات نے بہت سے لوگوں کی تعلیم، صحت اور روزی روٹی تک رسائی کو محدود کر دیا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular