
تل ابیب : اسرائیل کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ دو سال سے جاری جنگ میں زخمی بیس ہزار سے زائد فوجیوں کا علاج کیا گیا جس میں نصف ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔
وزارتِ دفاع کے بحالی کے محکمے کے مطابق علاج کیلئے لائے گئے 56 فیصد افراد پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر اور دماغی صحت کے دیگر حالات میں مبتلا ہیں۔ نو فیصد شدید زخمی۔ چھپن جزوی معزور۔ چوبیس مکمل معذور اور سولہ مفلوج ہوئے ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق بیس ہزار میں سے پینتالیس فیصد فوجی جسمانی طور پر زخمی۔ پینتیس فیصد نفسیاتی اور بیس فیصد دونوں طرح متاثر ہیں۔وزارت کا کہنا ہے کہ بحالی کا محکمہ مجموعی طور پر 81,700 زخمی سابق فوجیوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے، 2028 تک یہ تعداد ایک لاکھ تک جاپہنچے گی۔
رپورٹ کے مطابق اڑسٹھ فیصد ریزرو فورسز کے جوان خاص طور پر متاثر ہیں۔ بحالی کے شعبے کو توسیع دی جا رہی ہے تاکہ نہ صرف جسمانی زخموں کا علاج ہو بلکہ نفسیاتی اور جذباتی صحت کی دیکھ بھال بھی ممکن ہو سکے۔


































