
نئی دہلی : دوران حراست قیدیوں کی ہلاکتوں پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد بھارتی قابض انتظامیہ نے آزاد جموں و کشمیر کے بعض رہائشیوں سمیت مزید 150 قیدیوں کوغیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کی جیلوں سے اتر پردیش، ہریانہ اور نئی دلی کی جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔ ان 150 قیدی میں سے بیشتر حریت رہنما، کارکن، نوجوان اور طلبا ہیں جنہیں کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت نظر بند کیاگیا ہے۔بیشتر کشمیری نظربندوں کو اتر پردیش، ہریانہ، نئی دہلی اور دیگر بھارتی ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے جو کالے قوانین کے تحت جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تھے ۔ بھارتی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ان نظر بندوں میں آزاد جموں و کشمیر کے بعض رہائشی بھی ہیں جو مختلف مواقع پر غلطی سے کنٹرول لائن عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو گئے تھے۔اتر پردیش، نئی دہلی اور ہریانہ میں جیل حکام کو ان کشمیری نظربندوں کو مکمل طور پر تنہائی میں قید کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مودی حکومت کے ایک مذموم منصوبے کے تحت آئندہ دنوں میں مزید حریت رہنمائوں، کارکنوں اور نوجوانوں کومقبوضہ کشمیر سے بھارت کی جیلوں میں منتقل کیا جائے گا۔مقبوضہ جموں و کشمیر سے حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد پہلے ہی نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں گزشتہ کئی برس سے قید ہیں۔


































