Wed Oct 14, 2026

آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس

روزانہ کی خبریں

کتاب اللہ کی خوبیاں

تحریر: عظمت علی

قلم و دوات ایجاد ہوتے ہی لوگوں نے الفاظ و کلمات کوقید کرنا شروع کردیا۔الفاظ کا مجموعہ جملات کی صورت میں ظاہر ہوا۔ جملات نے مضامین اور اس نے کتابچہ اور کتاب کی شکل اختیار کی۔کتاب کی چند خاصیت ہوتی ہیں کہ اسے ایک خاص موضوع کے تحت مرتب کیا جاتاہے اور اگر اس میں صرف اسی موضوع سے معلومات رہیں تو بہتر اور قابل بقدر ہے۔اس لئے کہ یہ نامناسب معلوم ہوتا ہے کہ سائنس کی کتاب میں ریاضیات کے مسائل بیان کئے جائیں۔تاکہ قارئین بآسانی میں اپنے مسائل کی پیچیدہ گھتیوں کو سلجھاسکیں۔
 ہر صاحب قلم چاہے وہ جتنا عظیم عالم و فاضل اور ادیب کیوں نہ ہو وہ کبھی بھی اس با ت کا دعویٰ نہیں کر سکتاکہ جو کچھ اس نے لکھادیا وہ پتھر کی لکیر ہے اور اس میں نہ تو علمی لحاظ سے کوئی نقص ہے اور نہ ادبی کمی۔۔۔!
 آج تک جتنی بھی کتابیں منظر عام پر آئی ہیں وہ یا توماضی پر مبنی ہوتی ہیں یا حالات حاضرہ کے پیش نظرتحریر کی جاتی ہیں۔مگر آئندہ رونما ہونے والے واقعات و حادثات پر شاید ہی کوئی کتاب نشر ہوئی ہو۔ہاں ! اگر کوئی پیشن گوئی کرتاہے تو وہ ماہر علم نجوم ہوتاہے۔پر وہ بھی مکمل اعتماد کے ساتھ نہیں کہتا کہ ایساہی ہوگا۔بلکہ اس میں صحیح و غلط کااحتمال پایاجاتاہے کہ ہوسکتاہے تیر نشانہ پر لگ جائے یاخطاکر جائے !
ہر لکھنے والے اپنی صلاحیت اورقارئین کی لیاقت کے مد نظر ہی الفاظ کو جملوں کےسانچہ میں ڈھالتاہے۔چونکہ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی خاص علمی طبقہ سے مخصوص ہوتی ہیں اور بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جسے ہر کوئی سمجھ سکتاہے۔
اس دنیا کابڑاسے بڑا مصنف یہ بات کہنے کی جرات نہیں رکھتاکہ جو کتابیں میں نے تصنیف کی ہیں وہ اب حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہیں۔وہ تمام نوع انسانی کے لئے قابل استفادہ ہیں۔
مگر ایک کتاب ایسی بھی ہے جو مذکورہ تمام صفات سے جداگانہ عظمت کی مالک ہے اوروہ کتاب کوئی اورنہیں بلکہ کتاب الٰہی ہے۔قرآن مجید ایسی باعظمت کتاب ہے جسے محدود موضوعات کی چہار دیواری میں بند نہیں کیاجاسکتا۔یہ وہ کتاب ہے جس میں روز اول سے روز آخر تک کے تمام مسائل کاذکر موجود ہے۔بس چشم بینا اور بصیرت کی ضرورت ہے جیساکہ ارشاد الٰہی ہوتاہے : "کوئی خشک و تر ایسا نہیں جو کتاب مبین کے اند ر محفوظ نہ ہو۔” (سورہ انعام59 )
قرآن حکیم کا یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ دیگر کتابوں کے برخلاف اس میں کوئی نقص نہیں پایا جاتا۔کیونکہ یہ کتاب پاک و منزہ ذات باری تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اگر کسی کو اس بات سے انکارہے کہ یہ غیراللہ کی کتاب ہے اور اس میں کمی و زیادتی ہے تو "اگر یہ اپنی بات میں سچے ہیں تو یہ بھی ایسا کوئی کلام لے آئیں۔”(سورہ طور 34)
دوسری تمام کتابوں پر قرآن کریم کی فضیلت کی دلیل یہ ہے کہ یہ تینوں زمانے پر مشتمل ہے۔ جیساکہ مولائے متقیان امام علی(ع) فرماتےہیں : "قرآن کریم میں تم سے پہلے کی خبریں ،تمہارے بعد کےواقعات اور تمہارے درمیانی حالات کے لئے احکام موجود ہیں "۔(کلمات قصار 313)
اس کی برتری کی ایک اوردلیل ہے کہ اس میں کذب وافتراءکا شائبہ تک نہیں پایاجاتا۔ارشاد اب العزت ہوتاہے :”جس کے قریب ،سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آنہیں سکتاہے۔”(سورہ فصلت 42)
کتاب اللہ کی یہ خاصیت ہےکہ یہ کسی فرقہ،قوم و مذہب سے مخصوص نہیں بلکہ تمام انسانوں کے واسطہ ہدایت اور عالمین کے لئے نصیحت ہے۔ارشاد خداوندی ہوتا ہے : "ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کی گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے "۔(سورہ بقرہ 185)
"یہ قرآن تو عالمین کے لئے ایک نصیحت ہے "(سورہ یوسف 104، سورہ تکویر 27اور سورہ ص 87)
 "حالانکہ یہ قرآن عالمین کے لئے نصیحت ہے اور بس !”(سورہ قلم 52)
عظمت و اہمیت قرآن کے لئے یہی بہت کافی ہے کہ تاریخ بشریت میں اس سے بہتر اور جامع و مانع کوئی کتاب نہ تھی اورنہ ہوگی۔ورنہ پروردگار عالم خود اس کی حفاظت کی ذمہ داری لیتا اور رہتی دنیا تک اسے ہدایت حاصل کرنے اور گمراہی سے بچنے کاوسیلہ قرار دیتا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ تا صبح قیامت اس سے بہتر کوئی بھی کتاب دیکھنے کونہ ملے گی۔یہ بات توخود کتاب خدا سے ثابت ہے ا س میں متعدد مقامات پر چیلنج کیاہے کہ اس کے مثل پیش کرو(سورہ اسراء88)۔دس سورے لے آو ¿ (سورہ ہود 13)،ایک سورہ(سورہ یونس38اور سورہ بقرہ23) یا(کم ازکم )ایک کلام ہی کاجواب لاو ¿۔(سورہ طور 34)مگر صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اب تک ایک کلمہ کا بھی ہم مثل نہ پیش کیاگیا تو پھرآیت ،سورہ اور کل کتاب کجا!!!
قرآن مجید اوردوسری کتابوں میں اساسی فرق یہ ہے کہ اس کی تلاوت کرنے سے اکتاہٹ کے بجائے ہر دفعہ ایک نیا مفہوم نظر آتا ہے۔پوری دنیا کے ہر مسلمان کا اس کے حرف حرف پر مکمل ایمان تو ہےمگر ان کے عملی زندگی میں قرآن کہیں نظر نہیں آتا۔یہ کتاب جو انسانی حیات کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن پھر بھی بعض ایسےمسلمان مل جائیں گے جو اس کی تلاوت تک نہیں کر سکتے۔جس روز قرآنی فرمودات پر مکمل طور سے عمل ہونے لگا اس دن مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عزت وآبرو لوٹ آئے گی اور پھر سے حقیقی اسلام کا بول بالاہوجائے گا۔لہٰذا ! جتنا ہوسکے قرآن کی تلاوت کریں اور دینا و آخرت میں کامیاب بنیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular