
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن اور منشیات پورے معاشرے کیلئے ناسور، ڈرگز سے حاصل پیسہ سیاست میں استعمال ہوتا رہا، کرپٹ عناصر کو برا سمجھنا ہوگا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹرز کے دورہ کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشی کیخلاف کام کرنا ہوگا، منشیات کے خاتمے سے متعلق اقدامات پر توجہ نہیں دی گئی، منشیات سے پیسہ بنانے والا معاشرے میں قابل قبول ہوتا تھا، کرپشن، منشیات سے پیسہ بنانے کا نقصان معاشرے کو پہنچا، منشیات فروشی کیخلاف کام کرنا ہوگا، منشیات کے خاتمے سے متعلق اقدامات پر توجہ نہیں دی گئی، ہمیں نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانا ہے، منشیات سے پیسہ بنانیوالوں کو پہلے برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 70 لاکھ افراد منشیات کے عادی بن چکے، منشیات، کرپشن کے پیسے سے کئی لوگ الیکشن بھی جیتے ہیں، گھر میں ایک بھی منشیات کا عادی ہو وہ گھر تباہ کر دیتا ہے، افسوسناک ہے کہ ڈرگ آئس تعلیمی اداروں میں پھیل رہی ہے، منشیات یونیورسٹیز میں بھی پھیل چکی، صرف پولیس سے جرائم کی جدوجہد نہیں کی جا سکتی، منشیات ڈسپلن کو متاثر، کردار بدل دیتی ہے، چاہتا ہوں ڈرگ اور کرپشن کیخلاف معاشرہ مل کر لڑے، ناجائز طریقے سے دولت کمانے والوں کو معاشرے کا تسلیم کرنا بدقسمتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری یہ صورتحال ہے کہ پاکستان میں 70لاکھ لوگ منشیات کے عادی بن چکے ہیں، نیوزی لینڈ کی آبادی اس سے آدھی ہے، سنگاپور کی اتنی آبادی نہیں ہے، یعنی ملکوں کی اتنی آبادی نہیں ہے جتنے ہمارے ہاں منشیات کے عادی افراد ہو گئے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اس لت کا پتہ ہی نہیں چلتا اور یہ خاموش قاتل ہے، لوگ اس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے اور معاشرے کو اس کی اہمیت کا نہیں پتہ کہ یہ کس طرح معاشرے میں کینسر کی مانند پھیلتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد سے جرائم کے اعدادوشمار لیے تو انہوں نے بتایا کہ اسکولوں میں آئس کا نشہ پھیل گیا ہے، ایک اسکول کا بچہ اگر منشیات کا شکار ہو جائے تو نہ وہ صحیح طریقے سے پڑھ سکتا ہے کیونکہ منشیات سب سے پہلے آپ کا ڈسپلن متاثر کرتی ہے اور وہ انسان کی شخصییت بھی بدل دیتی ہے کیونکہ وہ زندگی کی جدوجہد نہیں کر سکتا جبکہ صحت پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


































