
سعودی نواز گروہوں کے خلاف انصار اللہ کا بھرپور اقدام، مآرب کو کئی اطراف سے گھیر لیا،شہر کے اطراف لڑائی،اپنے حامی گروپوں کی پٹائی پر برطانیہ بھی چیخ پڑا
حوثیوں کا شدید لڑائی کے بعد شہر کے مغربی پہاڑی سلسلے میں کئی فوجی چوکیوں پر قبضہ،سعودی عرب کے شہر نجران پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون سے جوابی حملہ
صنعا (نیوز ڈیسک) یمن میں انصار اللہ اور یمنی فوج نے مرکز شہر مآرب کا محاصرہ سخت کردیا اور شہر کے اطراف شدید لڑائی جارہی ہے،سعودی نواز گروپوں کی پٹائی پر برطانیہ بھی چیخ پڑا اور حوثیوں سے مآرب میں جنگ بند کرنے کا مطالبہ کردیا، یمنی عوامی مزاحمتی فورسز اور سرکاری افواج نے شہر کو کئی اطراف سے گھیر رکھا ہے،مستعفی یمنی حکومت کے بڑے حلیف حزب اخوانی الاصلاح کا بھی بڑا فوجی مرکز شہر کے اندر ہی واقع ہے مآرب کے مزاحمتی فورسز کے کنٹرول میں آ نے سے یمن کی مستعفی حکومت عملی طور پر ملک کے بڑے حصے سے بےدخل ہو جائے گی،سابق یمنی حکومت کے کمانڈر عبداللہ الاشرف نے دعویٰ کیا کہ جنگی علاقوں کے اندر سرکاری فوج موجود نہیں جبکہ وہاں لڑنے والے لوگ صرف چند ایک قبائلی اور علاقائی مسلح گروہ ہیں،حالیہ جھڑپ میں سابقہ حکومتی فورس کے 7کمانڈر ہلاک اور کئی فوجی زخمی ہوگئے، حوثیوں نے شدید لڑائی کے بعد شہر کے مغربی پہاڑی سلسلے میں کئی فوجی چوکیوں پر قبضہ کرلیا ہے ، ادھر صوبہ جوف میں بھی شدید لڑائی جاری ہے، یمن میںبرطانیہ کے سفیر مائیکل ارون نے حوثیوں کے مارب گورنری میں حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے، حوثی ملیشیا کو چاہیے کہ وہ مارب میں کئی ہفتوں سے جاری حملے بند کرے اور اقوام متحدہ کے یمن کے لیے مقرر کردہ ایلچی کے ساتھ مل کر کام کرے انہوں نے کہا کہ یمن میں عرب اتحاد نے مارب میں جنگ بندی کی پیشکش کی تھی مگر حوثیو ں نے اسے مسترد کردیا،ادھر حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر نجران پر بیلسٹک میزائل داغا ، بمبار ڈرون سے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا،عرب اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے دعویٰ کیا کہ بیلسٹک میزائل اور بمبار ڈرون کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی تباہ کر دیا گیا۔


































