
بین الاقوامی امدادی گروپ کولبنان کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش ہے،لبنان کو امداد کیلئے امدادی ممالک کے تحفظات دور کرنا ہوں گے،اقوام متحدہ
اصلاحات تک امداد نہیں مل سکتی، لبنانی حکومت نے شرائط مسترد کردیں، بین الاقوامی تحقیقات کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور عمل کو سست کرنا ہے،لبنانی صدر
نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکا ،فرانس ،جرمنی ،برطانیہ سمیت مختلف ممالک پر مشتمل انٹرنیشنل کرائس گروپ نے لبنان کی مالی مدد کیلئے اصلاحات کے نام پر کئی شرائط رکھ دیں جس میں حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے ، جسے لبنانی حکومت نے سختی سے مسترد کردیا ہے، لبنان کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جان کوبیس نے کہاہے کہ بین الاقوامی امدادی گروپ کے سفیروں نے ملک میں بڑھتے ہوئے بحران اور لبنان کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سیاسی قیادت کی جانب سے حقیقی اصلاحات نہ کرنے پر امدادی گروپ کو مایوسی کا سامنا ہے، لبنان کے اعلی سطح کے حکام اور سیاسی رہ نماوں کوپیغامات بھیجے مگر ان کے رد عمل انتہائی مایوس کن تھے،کوبیس نے نشاندہی کی کہ فوری اصلاحات تک لبنان کو بین الاقوامی امدادی پیکیج نہیں مل سکتا، بیروت کو عالمی برادری اور امداد دینے والے ممالک کی طرف سے ظاہر کردہ تحفظات دور کرنا ہوں گے، اقوام متحدہ نے بیروت کی بندرگاہ پرتباہ کن دھماکوں کے بعد لبنان کی مدد کیلئے 565 ملین ڈالر کے عطیات جمع کرنے کی اپیل کی تھی،لبنانی صدر مائیکل عون نے بیروت دھماکے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی تحقیقات کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور عمل کو سست کرنا ہے۔


































