
عالمی برادری کو ایسے اقدمات روکنے کیلئے کوشش کرنی چاہیے، او آئی سی،قرآن جلانا اقلیتوں کے حقوق کی پامالی اور عدم رواداری کی مثال ہے، جامعہ الازہر
دانش مندی کے ساتھ جواب دیا جائے، رابطہ عالم اسلامی،آزادی اظہار رائے مذہبی منافرت کا جواز نہیں دیتی،پاکستان، ترکی کی جانب سے بھی مذمت
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان ،ایران،ترکی ، او آئی سی اور جامعہ الازہر نے مغرب میں قرآن سوزی اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کی ہے،اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے سوئیڈن کے شہر مالمو میں قرآن سوزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کو جلانا ایک تحقیر آمیز اقدام ہے جس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا ہے اور عالمی برادری کو ان اقدمات کی روک تھام کیلئے کوشش کرنی چاہیے، جامعہ الازہر نے اس اقدام کو اقلیتوں کے حقوق کی پامالی اور عدم رواداری کی مثال قرار دیا، بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے اسلام فوبیا کو تقویت ملے گی جس سے بقائے باہمی کی فضا کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے،پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسلامو فوبیا کے بڑھتے واقعات کسی بھی مذہب کی روح کے خلاف ہیں، آزادی اظہار رائے مذہبی منافرت کا جواز نہیں دیتی، دوسروں کے مذہبی عقائد کا احترام یقینی بنانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،رابطہ عالم اسلامی نے پوری دنیا کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور اشتعال انگیز اقدام کا حکمت اور دانش مندی کے ساتھ جواب دیں،رابطہ عالم اسلامی نے سویڈش حکام کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے کو سراہا، سویڈن کی حکومت نے اس واقعے کو انفرادی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعہ سویڈن قوم کی اجتماعی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتا ،تر کی کے دفتر ِ خارجہ نے کہا کہ ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ قانونی مملکتوں اور جموری نظام کو بھی ہدف بناتی ہیں بیمار ذہنیت کے خلاف جدوجہد محض اس قسم کی افکار کو پھیلانے والے پاپولسٹ سیاستدانوں کو پس ِ پردہ رکھنے سے ہی ممکن ہے، نسل پرست اور اسلام دشمنی کو نظریاتی آزادی کے دائرے میں شامل کرنا ایک انتہائی غلط فعل ہے ،ترکی ہمیشہ فاشسٹ نسل پرست تحریکوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔


































