
فلسطین نے ابوظہبی سے سفیر واپس بلالیا، غداروں کو فلسطینی عوام کی طرف سے بولنے کا کوئی حق نہیں،محمود عباس، تمام فلسطینی رہنماوں کا اجلاس بلانے کااعلان
فلسطینیوں کے ساتھ غداری اور نئی سازش ہے، معاہدہ اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے جیسا ہے، سمجھوتے پر قومی اتفاق رائے کیا جائے، مزاحمتی تنظیمیں
مقبوضہ بیت المقدس(نیوز ڈیسک) فلسطینی حکومت اور مزاحمتی تنظیموں نے عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی کاز اور امت مسلمہ سے غداری قرار دیا، فلسطین نے بطور احتجاج ابوظبی سے اپنا سفیر واپس بلالیا، جبکہ رام اللہ میں متعین متحدہ عرب امارات کے سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا، فلسطینی صدرمحمود عباس نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے غداری کی ہے اور غداروں کو فلسطینی عوام کی طرف سے بولنے کا کوئی حق نہیں، جو عرب ملک اسرائیل سے تعلقات قائم کرے گا اس کے ساتھ بھی امارات جیسا سلوک کیا جائےگا اور اس کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات ختم کردیئے جائیں گے، انہوں معاہدہ کئے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تمام فلسطینی رہنماوں کا اجلاس بلانے اعلان کیا، حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور جہاد اسلامی کے سربراہ زیاد النخالہ نے ٹیلیفونک گفتگو میں عرب امارات اور اسرائیل کے شرمناک سمجھوتے پر قومی اتفاق رائے پر زور دیا،حماس کے رہنما اورتعلقات عامہ کے رکن باسم نعیم نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کرکے مسئلہ فلسطین کے بارے میں عرب دنیا کے قصور کی تمام حدوں کو پار کر دیا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ صیہونی دشمن جلد یا بدیر نابود ہو کر رہے گا،حماس نے ایک اعلامیہ میں کہا کہ معاہدہ کرکے غداروں نے فلسطینیوں کی کمر میں خنجر گھونپ دیا، اسلامی جہاد نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے جیسا ہے،پی ایل او کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نے عرب ممالک سے کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ختم اور کالعدم قرار دیں،عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے بھی متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو فلسطینیوں کے ساتھ غداری اور نئی سازش قرار دیا ہے۔


































