Tue Oct 13, 2026

یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی

روزانہ کی خبریں

زبان کی آفتیں

آیت اللہ مہدوی کنی
علم اخلاق کے اہم موضوعات میں سے ایک زبان کی آفات اور اس سے مربوط گناہوں کا بیان ہے۔ بات کرنے اور زبان کی نعمت اگرچہ مفید اور گرانقدر ہے لیکن زبان کے گناہ اور اس کے نقصانات کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جس طرح اللہ کے نزدیک کوئی عبادت حق گوئی سے زیادہ اہم نہیں اسی طرح کوئی گناہ سخن باطل سے زیادہ سنگین نہیں۔
آسمانی تعلیمات اور حکماءکے بیانات میں زبان کے نقصانات کے بارے میں نہایت قیمتی اور دلچسپ نکات موجود ہیں۔
زبان کے مثبت اور منفی پہلو
جیسا کہ عرض ہو چکا زبان اور بیان کی نعمت خاص اہمیت کی حامل ہے لیکن اس نکتے سے بھی غفلت نہ کی جائے کہ زبان جیسے مثبت پہلو رکھتی ہے ایسے ہی منفی پہلو کی بھی حامل ہے۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ زبان چونکہ خدا کی ایک عظیم نعمت ہے پس اسے زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا چاہیے اور بغیر سوچے سمجھے ہر قسم کی بات کو زبان پر جاری کرنا چاہیے یہ طریقہ درست نہیں بلکہ زبان کو صرف ضروری اور مفید امور کے لئے استعمال میں لانا چاہیے۔
اصولی طور پر صاحب عقل انسان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ بے جا گفتگو نہیں کرتا کیونکہ زبان سے انسان کی عقل کا اندازہ ہوتا ہے۔
امیر المومنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں۔
” بات کرو تاکہ (تمہاری باتوں کے ذریعے) تمہاری شناخت ہو سکے کیونکہ انسان اپنی زبان کے نیچے پنہاں ہے۔“
ایک مقاص پر ارشاد ہے:
” بہ تحقیق مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے اور منافق کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہوتا ہے۔ یعنی مومن جب کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو پہلے غور کرتا ہے پھر اگر اس بات میں کوئی بھلائی ہو تو اسے کہتا ہے اور اگر وہ بات بری ہو تو اسے زبان پر نہیں لاتا اور بہ تحقیق منافق جو کچھ زبان پر آئے کہہ ڈالتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ کونسی بات اس کے فائدے میں ہے اور کونسی بات اس کے لئے نقصان دہ ہے۔ “اس کے بعد فرمایا:”رسول اللہ نے فرمایا ہے: کسی بندے کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل صحیح نہ ہو اور اس کا دل اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کی زبان درست نہ ہو۔“
مختصر یہ کہ انسان کو بات کرتے وقت احتیاط اور غور و فکر سے کام لینے اور فضول باتوں سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر بات کرتے وقت وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے تو اس پر برے اور نقصاندہ اثرات مرتب ہوں گے۔
ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو بات کرنے کے بعد ندامت و پیشمانی کا شکار ہوتے ہیں لیکن سکوت اور خاموشی کے باعث کسی کو ندامت یا پیشمانی سے روبرو ہونا نہیں پڑتا۔
بعض روایات میں مذکور ہے کہ خاموشی اور سکوت بات کرنے سے بہتر ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا کہ:
” مومن کی نجات زبان کی حفاظت میں ہے۔“
امام جعفر صادق ؑ کا ارشاد ہے:
” لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: عزیز بیٹے! اگر تمہارا خیال ہے کہ بات کرنا چاندی کے برابر ہے تو جان لو خاموش رہنا سونے کے برابر ہے۔“
اہل تحقیق کا شیوہ
امام صادقؑ نے خاموشی کے فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: خاموشی اور سکوت اہل تحقیق کا شیوہ اور ان لوگوں کا وتیرہ ہے جو بصیرت کی آنکھوں سے کائنات کی ٹھوس اور اٹل حقیقتوں کا مطالعہ کرتے ہیں وہ سابقہ حقائق اور ماضی کے لمحات میں غور و فکر کرتے ہیں اور ایسے حقائق بیان کرتے ہیں جن کا ذکر قلم اور کتابوں کے ذریعے نہیں ہوا۔
اس کے بعد فرمایا: خاموشی کے ایسے فوائد و آثار ہیں جن کی طرف اشارہ کیا جاتا :
1۔ خاموشی دنیا و آخرت کی ہر آسائش کی چابی ہے۔
2۔ اللہ کی خوشنودی کا باعث ہے۔
3۔ قیامت کے دن حساب میں آسانی کا باعث ہے۔
4۔ خطاو ¿ں اور لغزشوں سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے۔
5۔ جاہل کے لئے پردہ اور سائز ہے نیز عالم کے واسطے باعث زینت ہے۔
6۔ نفسانی خواہشات کو روکنے کا سبب ہے۔
7۔ نفسانی خواہشات کو روکنے کا سبب ہے۔
8۔ نفس کے لئے ریاضت کا وسیلہ ہے۔
9۔ عبادت اور اللہ کے ساتھ راز و نیاز کی لذت و حلاوت کو درک کرنے کا ذریعہ ہے۔
9۔ دل کی قساوت اور سختی کو ختم کرتی ہے۔
10۔ حیاءاور پرہیزگاری کے حصول کا ذریعہ ہے۔
11۔ تدبر، تعقل، مروت اور مردانگی میں اضافے کا باعث ہے۔
12۔ فہم، دانائی اور عقل کی موجب ہے۔
اس کے بعد امام صادق ؑ نے فرمایا: اب جبکہ تم زیادہ باتیں کرنے کے نقصانات اور عیوب سے آگاہ ہو چکے ہو تو تمہیں چاہیے جب تک (بات کرنے پر) مجبور نہ ہو جاو ¿ اپنی زبان مت کھولو خاص کر اگر کسی ایسے شخص کو نہ پاو ¿ جس کے ساتھ خدا کی خاطر اور خدا کی راہ میں بات کر سکو۔
اس کے بعد فرمایا: لوگوں کی حلاکت اور نجات بات کرنے اور خاموش رہنے میں ہے۔ پس خوش نصیب ہے وہ شخص جسے اچھی اور بری باتوں کی شناخت کی توفیق حاصل ہو اور جسے کم بولنے اور سکوت کے فوائد وآثار کا پتہ چل جائے ،کیونکہ خاموشی انبیائے الہٰی کے اخلاق کا حصہ اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کا وتیرہ ہے۔ اگر کوئی گفتگو کی قدر و قیمت سے آگاہ ہو تو وہ سکوت کو اپنا شیوہ بنائے گا اور جو شخص سکوت کی لطافت سے آگاہ اور واقف ہو جائے۔ وہ خاموشی اور سکوت کو اپنے دل کے خزانوں اور اسرار کاامین بنائے گا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اس کی گفتگو اور خاموشی دونوں ہی عبادت کا درجہ حاصل کریں گے نیز وہ خدا کی خاطر اور اسی کی راہ میں گفتگو کرے گا۔ ایسی عبادت و بندگی سے سوائے خدا کے کوئی آگاہ نہیں ہے۔
ایک ضروری وضاحت
اور قابل غور نکتہ
البتہ اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ خاموشی سے متعلق احادیث کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہمیشہ اور ہر حالت میں اپنی زبان بند رکھے اور کوئی بات نہ کرے یہاں تک کہ اپنے دوست و احباب کے حق کو ثابت کرنے یا اپنا دفاع کرنے کے لئے بھی بات نہ کرے، بلکہ ان احادیث کا مقصد بے فائدہ اور فضول باتوں سے روکنا ہے کیونکہ اگر ہم خاموشی سے متعلق احادیث کا یہ مطلب لیں کہ انسان کو ہر حالت میں خاموشی اختیار کرنی چاہیے ، یہاں تک کہ ظالموں کے ظلم اور مفسدوں کی فساد انگیزی کے سامنے بھی خاموش رہنا چاہیے تو یہ نظریہ یقیناًشریعت اسلامیہ کے مسلمہ اصولوں کے برخلاف ہوگا۔
اسلام نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا شمار اہم ترین واجبات میں سے کیا ہے۔ اور ظلم کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنے کو عظیم گناہ قرار دیا ہے۔ اگر مفاسد اور مظالم کے آگے خاموشی اچھی بات فرض کی جائے تو اسلام کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس قسم کے موقعوں پر اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ مہر سکوت کو توڑ کر آواز بلند کی جائے اور لوگوں کو بھی ظلم و ستم اور برائیوں کے خلاف قیام پر آمادہ کیا جائے کیونکہ:
” اگر تم دیکھ رہے ہو کہ اندھا آدمی جارہا ہے اور سامنے کنواں ہے تو اس وقت خاموش بیٹھے رہنا گناہ ہے۔“
جن احادیث میں خاموشی کی فضیلت اور تعریف بیان کی گئی ہے ان کا مقصد ان باتوں سے روکنا ہے جو فضول اور بے جا ہوں یا غیبت، تہمت، جھوٹ اور افتراءوغیرہ پر مشتمل ہوں۔ ایسے موقعوں پر یقیناًانسان کو اپنے اوپر کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔
بعض احادیث میں ایسی گفتگو کو جو نقصاندہ نہ ہو اور انسان کے ایمان کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو، خاموشی پر ترجیح دی گئی ہے۔ رسول اکرم نے فرمایا:
” اللہ کی رحمت ہو اس بندے پر جو اچھی بات کرکے فائدہ حاصل کرے یا بری بات کرنے سے پرہیز کر سلامت رہے۔“
گفتگو کا نتیجہ
گزشتہ عرائض کی روشنی میں ہم یہ نتیجہ لیتے ہیں کہ گفتگو کی نعمت اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود دو مثبت اور منفی پہلوو ¿ں کی حامل ہے۔ خود سازی کے ابتدائی مرحلے میں اس کے مثبت پہلو کی نسبت منفی پہلو پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ جب انسان اس مرحلے کو کسی حد تک طے کرے اور اپنی زبان پر قابو پالے اس کے بعد ”سکوت“ کے بجائے صمت پر بحث کی جاتی ہے کیونکہ ہر قسم کے سکوت کو صمت نہیں کہا جاتا۔ صمت سے مراد بامقصد اور سوچی سمجھی خاموشی ہے یعنی معقول اور بجا خاموشی۔ یاد رہے کہ ہر قسم کا سکوت مطلوب اور مرغوب نہیں ہے لیکن معقول اور بجا خاموشی مطلوب ہے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے بہت سے موقعوں پر زبان سے عقیدہ کا اظہار اور امرونہی واجب ہے۔ ایسے موقعوں پر خاموشی حرام ہے۔

ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular