Tue Oct 13, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

جمال خاشقجی کے قاتلوں کی سزائے موت ،قید میں تبدیل

سعودی عدالت نے 5ملزمان کی سزائے موت کو 20سال قید میں بدل دیا ، تین ملزمان کو 7 سے 10 سال تک کی قید کی سزائیں،مقدمہ خارج کردیا گیا
 سزائیں منصفانہ ہیں، شریعت کے مطابق فیصلہ کیا گیا، یہ فیصلہ ضرر پہنچانے والے ہر مجرم کے لیے دندان شکن ہے،جمال خاشقجی کے لواحقین کا بیان
ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عدالت نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ملزمان کی سزائے موت کو 20سال قید میں بدل دیا اور لواحقین کی دستبرداری کی آڑ میں مقدمہ ختم کردیا، سعودی ترجمان پروسیکیوٹر جنرل کے مطابق ریاض کی کریمنل عدالت نے 5ملزمان کو 20، 20 سال قید، جبکہ تین ملزمان کو 7 سے 10 سال تک کی قید کی سزائیں سنائی ہیں،پراسیکیوٹر کے مطابق ملزمان کو سنائی گئی سزائیں حتمی ہیں، سزائیں سنائے جانے اور لواحقین کی دستبرداری کی آڑ لیکر مقدمہ خارج کردیا گیا ہے، یاد رہے کہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018 میں استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا ،سعودی میڈیا نے لواحقین کا بیان جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سزائیں "منصفانہ فیصلہ” ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ سزا یافتہ مجرموں کی جانب سے مرتکب جرائم بہت بڑے ہیں اور اس حوالے سے سنائی جانے والی مختلف سزائیں منصفانہ ہیں، یہ سزائیں اس عدالت کی جانب سے دی گئی ہیں جو شریعت کے مطابق فیصلے کرتی ہے، یہ فیصلہ ضرر پہنچانے والے ہر مجرم کے لیے دندان شکن ہے ۔

مزید پڑھیے

Most Popular