
سعودی عدالت نے 5ملزمان کی سزائے موت کو 20سال قید میں بدل دیا ، تین ملزمان کو 7 سے 10 سال تک کی قید کی سزائیں،مقدمہ خارج کردیا گیا
سزائیں منصفانہ ہیں، شریعت کے مطابق فیصلہ کیا گیا، یہ فیصلہ ضرر پہنچانے والے ہر مجرم کے لیے دندان شکن ہے،جمال خاشقجی کے لواحقین کا بیان
ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عدالت نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ملزمان کی سزائے موت کو 20سال قید میں بدل دیا اور لواحقین کی دستبرداری کی آڑ میں مقدمہ ختم کردیا، سعودی ترجمان پروسیکیوٹر جنرل کے مطابق ریاض کی کریمنل عدالت نے 5ملزمان کو 20، 20 سال قید، جبکہ تین ملزمان کو 7 سے 10 سال تک کی قید کی سزائیں سنائی ہیں،پراسیکیوٹر کے مطابق ملزمان کو سنائی گئی سزائیں حتمی ہیں، سزائیں سنائے جانے اور لواحقین کی دستبرداری کی آڑ لیکر مقدمہ خارج کردیا گیا ہے، یاد رہے کہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018 میں استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا ،سعودی میڈیا نے لواحقین کا بیان جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سزائیں "منصفانہ فیصلہ” ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ سزا یافتہ مجرموں کی جانب سے مرتکب جرائم بہت بڑے ہیں اور اس حوالے سے سنائی جانے والی مختلف سزائیں منصفانہ ہیں، یہ سزائیں اس عدالت کی جانب سے دی گئی ہیں جو شریعت کے مطابق فیصلے کرتی ہے، یہ فیصلہ ضرر پہنچانے والے ہر مجرم کے لیے دندان شکن ہے ۔


































