
گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایران نے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی، معاہدے کے اہم فوائد ختم کر دیئے جانے پر شدید تشویش ہے،برطانیہ،فرانس،جرمنی
جوہری معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کا ایران سے ایسا مطالبہ منطقی ہے اور نہ ہی عملی،یورپی ممالک کو سیاسی تفرقہ ڈالنے سے گریز کریں ، ایران کا انتباہ
تہران (نیوزڈیسک) ایران کے جوہری معاہدے پر عملدرآمد سے گریزاں یورپی ممالک بھی امریکی زبان بولنے لگے ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی مثلث نے دعوی کیا ہے کہ ان کی نیک نیتی کے باوجود ایران نے جوہری معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی ہے ، گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی پر مشتمل متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جبکہ ہم عدم جوہری پھیلاوَ پر مشتمل جوہری معاہدے کے اہم فوائد کے ایران کے ہاتھوں ختم کر دیئے جانے پر شدید تشویش کا شکار ہیں ، ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مشترکہ بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے، وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو سیاسی تفرقہ ڈالنے کے بجائے ایرانی جوہری معاہدے اور مشترکہ کمیشن کی طرف سے منظور شدہ شقوں پر مکمل عملدرآمد کے لئے اقدامات اٹھانا چاہئیں اور جوہری معاہدے کو مکمل طور پر لاگو کرنا چاہئے، ایران کی جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت اور مکمل طور پر قانونی اور تمام ممالک کے لاینفک ذاتی حقوق کے اصول کے عین مطابق ہیں ،ایران ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اگر مقابل فریق نے جوہری معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد نہ کیا توجوہری پروگرام کی محدودیت پر مبنی اقدامات قابل واپسی ہوں گے ،جوہری توانائی ایجنسی میں ایران کے مستقل نمائندے کاظم غریب آبادی نے اجلاس سے خطا ب میں یورپی ممالک کی طرف سے جوہری معاہدے کے تحت دستخط شدہ معاہدوں پر عملدرآمد نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکا کی غیر قانونی و یکطرفہ دستبرداری کے بعد ان ممالک نے بھی معاہدے کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا لہذا ایران سے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرنا منطقی ہے اور نہ ہی عملی۔


































