
کابل : امریکا نے کابل ایئرپورٹ حملے کو جواز بناکر افغانستان میں ایک بار پھرڈرون حملے شروع کردئے، صوبے ننگرہار میں داعشی دہشت گردوں پر ڈرون حملہ کیا گیا، امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون حملے میں داعش خراسان سے تعلق رکھنے والا کابل ائرپورٹ حملے کا منصوبہ ساز مارا گیا۔ تاہم ابھی تک آزاد ذرائع سے امریکی دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔جبکہ امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو کابل ایئرپورٹ کے گیٹس سے دور رہنے کی ہدایت کر دی۔ کابل ایئرپورٹ کے کنٹرول کی صورتحال بھی واضح نہ ہوسکی۔ ہوائی اڈے پر کنٹرول کے متضاد دعوے سامنے آگئے۔ ترجمان طالبان کے مطابق کابل ایئر پورٹ کے تین اہم حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز کے پاس ایئر پورٹ کا بہت چھوٹا حصہ رہ گیا۔
پینٹاگون کی جانب سے دعوے کی تردید کی گئی ہے۔ ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ آپریشنز کا کنٹرول امریکا کے پاس ہے، طالبان کے پاس کسی گیٹ کا چارج نہیں ہے۔ ترجمان امریکی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک کابل ایئرپورٹ پر طالبان کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہتے ہیں، طالبان چاہتے ہیں 31 اگست کے بعد ایئرپورٹ پر کام معمول کے مطابق ہو، طالبان نے اس سلسلے میں ہم سے بات کی ہے، افغانستان میں سفارتی موجودگی کیلئے اتحادیوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔


































