
کراچی : اتحاد بین المسلمین کے روح رواں قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی(رح) کو بچھڑے 33 برس بیت گئے، علامہ سید عارف حسین الحسینی 25 نومبر 1946 کو شمال مغربی شہر پاراچنار کے نواحی گاؤں پیواڑ کے ایک مذہبی، علمی اور سادات گھرانے میں پیدا ہوئے، ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مدرسہ جعفریہ پاراچنارمیں داخلہ لیا اور مختصر سے عرصے میں مقدمات (ادبیات عرب) مکمل کر لئے، آپ کومادری زبان پشتو کے علاوہ فارسی، عربی اور اردو پرعبور حاصل تھا، علامہ سید عارف حسین الحسینی 1967 میں نجف اشرف مشرف ہوئے اور نجف اشرف اور بعد ازاں قم میں مختلف اساتذہ کے ہاں فقہ اور اصول فقہ کے اعلی مدارج طے کئے، 1973ء میں انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں عراق کی بعثی حکومت نے انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا اور کچھ عرصہ بعد ملک بدر کر دیا، علامہ سید عارف حسین الحسینی اس کے بعد ایران تشریف لے گئے اور قم میں رہائش اور حصول علم کے دوران وہ پہلوی حکومت کے خلاف علماء اور عوام کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتے تھے، لہذا انہیں گرفتار کرکے ملک بدر کردیا گیا، وطن واپسی کے بعد تقریبا 10 مہینوں تک پاراچنار میں تبلیغ دین میں مصروف رہے، علامہ عارف حسین الحسینی کو 5 اگست 1988 کی صبح پشاور میں ان کے اپنے مدرسے میں نمازِ صبح کے بعد سامراجی ایجنٹوں نے فائرنگ کر کے شہید کردیا تھا۔


































