Tue Oct 13, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

اتحاد بین المسلمین کے داعی شہید علامہ عارف حسین الحسینی کو بچھڑے 33 برس بیت گئے

کراچی : اتحاد بین المسلمین کے روح رواں قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی(رح) کو بچھڑے 33 برس بیت گئے، علامہ سید عارف حسین الحسینی 25 نومبر 1946 کو شمال مغربی شہر پاراچنار کے نواحی گاؤں پیواڑ کے ایک مذہبی، علمی اور سادات گھرانے میں پیدا ہوئے، ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مدرسہ جعفریہ پاراچنارمیں داخلہ لیا اور مختصر سے عرصے میں مقدمات (ادبیات عرب) مکمل کر لئے، آپ کومادری زبان پشتو کے علاوہ فارسی، عربی اور اردو پرعبور حاصل تھا، علامہ سید عارف حسین الحسینی 1967 میں نجف اشرف مشرف ہوئے اور نجف اشرف اور بعد ازاں قم میں مختلف اساتذہ کے ہاں فقہ اور اصول فقہ کے اعلی مدارج طے کئے، 1973ء میں انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں عراق کی بعثی حکومت نے انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا اور کچھ عرصہ بعد ملک بدر کر دیا، علامہ سید عارف حسین الحسینی اس کے بعد ایران تشریف لے گئے اور قم میں رہائش اور حصول علم کے دوران وہ پہلوی حکومت کے خلاف علماء اور عوام کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتے تھے، لہذا انہیں گرفتار کرکے ملک بدر کردیا گیا، وطن واپسی کے بعد تقریبا 10 مہینوں تک پاراچنار میں تبلیغ دین میں مصروف رہے، علامہ عارف حسین الحسینی کو 5 اگست 1988 کی صبح پشاور میں ان کے اپنے مدرسے میں نمازِ صبح کے بعد سامراجی ایجنٹوں نے فائرنگ کر کے شہید کردیا تھا۔

مزید پڑھیے

Most Popular